اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے بدھ کے روز تہران میں ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ یمن اس وقت انسانی المیے کے دہانے پر کھڑا ہے اور جارح ملکوں کی جانب سے گذشتہ چالیس روز سے جاری محاصرے کی بناء پر یمنی عوام کی، مدد نہیں ہوپا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران، یمن کا محاصرہ ختم کرانے اور یمنی عوام کےلئے امداد کی ترسیل کی ضرورت کے بارے میں دنیا کے مختلف ملکوں اور بین الاقوامی اداروں سے گفتگو کی کوشش کر رہا ہے اور امید ہے کہ موثر عوامل کی بنیاد پر یہ کام تیزی کے ساتھ انجام پائے گا اور یمنی عوام تک امداد پہنچ سکے گی- ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ایران نے یمن کے بحران کے حل کےلئے مختلف طریقے منجملہ ایک چار نکاتی فارمولہ پیش کیا ہے اور ایران نے علاقے کو ہر طرح کی کشیدگی و جنگ سے دور رکھے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور عقل و منطق بھی، اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ ممالک، جو علاقے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں، وہ بھی ان کوششوں میں شامل ہوجائیں- مرضیہ افخم نے کہا کہ یمن کا محاصرہ، یقینا ایک ایسا اقدام ہے جسے ہرگز معاف نہیں کیا جاسکتا اور اس ملک کے محاصرے کا مسئلہ، عرب قوموں کے ذہنوں میں ہمیشہ باقی رہے گا- ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری سمجھوتے کے متن کی نگارش کے بارے میں بھی کہا کہ ایران، ہر طرح کی توسیع پسندی کے خلاف ہے اور اس کے خلاف ہمیشہ استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ مرضیہ افخم نے کہا کہ ایران، ایک طاقتور اور منطق و اصول کا حامل ملک تسلیم کیا گیا ہے اور بین الاقوامی قوانین و اصول پر اس کی پابندی نے اس کی اس حقیقت کو آشکارا بھی کیا ہے بنابریں مغربی حکام کے غیر منطقی بیانات، صرف تشہیراتی پہلو کے حامل ہیں جن سے ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کےلئے ایران کے جوہری مذاکرات کاروں کے عزم و ارادے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مذاکرات کے موضوعات مکمل واضح ہیں اور ان ہی پر، گفتگو بھی ہورہی ہے، کہا کہ جب تک جامع جوہری سمجھوتے کا متن، مکمل اور حتمی نہیں ہوجاتا اس وقت تک کسی بھی طرح کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مرضیہ افخم نے اسی طرح عراق میں ایران کے فوجی مشیروں کی موجودگی کے بارے میں کہا کہ یہ موجودگی، حکومت عراق کی درخواست کی بنیاد پر ہے اور اس سلسلے میں ہونے والے صلاح و مشورے کے عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے عراق کی تقسیم کے بارے میں امریکی کانگریس کے منصوبے سے متعلق بھی کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس سلسلے میں عراق کی مرجعیت، حکومت اور قوم کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور انھوں نے اپنے ملک کے قومی اقتدار اعلی کا احترام اور ارضی سالمیت کا تحفظ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ مرضیہ افخم نے تاکید کے ساتھ کہا کہ عراق کی تقسیم جیسے منصوبے، مکمل طور پر مداخلت پسندانہ ہیں جس کا مقصد عراق میں تفرقہ پیدا اور اس ملک کو کمزور بنانا ہے اور عراقی عوام کی ہوشیاری سے یقینا ایسا کوئی بھی منصوبہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲